Kids Stories Online

Breaking News
recent

قو م کی خا طر ایثار KIDS STORIES.ONLINE


قو م کی خا طر ایثار

ایک تھا جنگل جس کے ایک حصے میں ریچھ رہا کرتے تھے اور دوسرے حصے میں بندر۔ ایک دن ریچھوں کے جی میں آئی کہ کیوں نہ سارے جنگل پر قبضہ کر لیں۔ چناں چہ انھوں نے بندروں پر حملہ کیا۔انھیں مار مار کر بھگا دیا اور سارے جنگل پر قبضہ کر لیا۔

قو م کی خا طر ایثار

جس کی وجہ سے

بندروں سے ان کا وطن چھین لیا، جنگل کے پھل چھٹے اور وہ حیران و پریشان آوارہ گردی کرنے لگے۔ یہ حال دیکھ کر ایک بندر کا بہت دل کڑھا۔ اس نے سب کو جمع کیا اور کہا" میری بات مانو، مجھےزخمی کر دو، جگہ جگہ سے کھال نوچ لو اور جہاں سے ہمیں نکالا گیاہے، وہیں پھینک دو۔ میں کچھ تربیر کرون گا اور ریچھوں کی بلا سے نجات مل جائے گی اور تمھیں اپنا وطن واپس مل جائے گا۔ " بندر ایسے غم گسار اور ایثار مند سے یہ سلوک کرنا تو نہ چاہتے تھے مگر آخر مان گئے اور اس بندر کو ادھ موا کر کے ڈال گئے۔

ریچھوں نے ایک زخمی بندر کو دیکھا اور پوچھا: " تم یہاں کیسے آ ئے تمھیں معلوم نہ تھا کہ ہم اس جنگل کے واحد مالک ہیں؟ " زخمی بندر نے آ ہیں بھر تے ہوئے جواب دیا: " میں نے اپنے ساتھیوں کو تمھارا غلام بن کر رہنے کو کہا تو انھوں نے میرا حال کر دیا۔

اب وہ ایک ایسے جنگل میں چلے گئے ہیں، جہاں ہر طرف ہری بھری گھاس کا فرش بچھا ہوا، چشمے ٹھنڈا پانی اگل رہے ہیں۔ پھل دار درختوں کے بے شمار جنگل ہیں جنگل کیا بہشت کا قطعہ ہے۔"

ریچھ حریص تو ہوتے ہی ہیں۔ انھوں نے کہا: " تم ہمیں وہاں لے چلو، ہم تمھارا انتقام بھی لیں گے اور اس جنگل میں چین کی ہنسری بجائیں گے ، تمھارے زخموں کا علاج بھی کریں گے۔"


انصاف

بندر مان گیا۔ انھوں نے ایک ریچھ پر بندر کو لاد لیا اور سارے ریچھ بندر کی راہ نمائیمیں چل پڑے۔ رات بھر چلتے رہے، ایک جگہ معمول کیچڑ تھی اور اس سے آگے گہری دلدل۔

بندر نے کہااس دلدل سے آگے وہ جنگل ہے جسے جنت نظیر کہا جاتا ہے تم بے خطر بڑھو اور میرے پیچھے چلو آ و۔
ریچھ آ گے بڑھتے گئے اور دلدل میں دھنستے گئے۔ حتیٰ کہ آ خری ریچھ تک دلدل کے پیٹ میں اتر گیا۔ اگلی صبح کو سارا

جنگل سنسان تھا، کسی ریچھ کا پتا نہ تھا۔ بندر خو شی مناتے ہوئے واپس آ ئے اور سارے جنگل کے مالک بن گئے۔

ایک بندر کا یہ ایثار ساری قوم کا اقبال بن گیا۔

ختم شد

No comments:

Theme images by Silberkorn. Powered by Blogger.